مریخ کے لیے ناسا کی طرف سے بھیجی گئی خلائی گاڑی کیوروسٹی کا ایک خاص چٹان سے قریبی رابطہ ہوا ہے اور اس نے چٹان کا جائزہ لینے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
روبوٹ نے اپنی مشینی باہیں وہاں پائے جانے والے جوہری مادوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک قسم کی مخروطی چٹان کی طرف بڑھائیں اور اسے کھودا ہے۔ابھی بھی جاری ہے۔
مریخ کی اس چٹان کا نام ’جیک میٹجیوک ‘ ہے جوگاڑی کے انجن بنانے والے ایک انجینیئر کے نام پر ہے۔
اس چٹان کی کھدائی سے کسی بڑی دریافت یا تحقیق کی توقع نہیں ہے بلکہ اس پہلے تجربے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ روبوٹ کے بازو، ہینڈ لینس، اور ایکسرے کی کارکردگی کیا رہتی ہے۔
ابھی یہ گاڑی مریخ کے اس مقام پر پہنچنے کی کوشش میں ہے جسے سائنس دانوں نے گلینلگ کا نام دیا ہے۔ سیٹلائٹ سے موصول ہونے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مقام تین اقسام کے ارضیاتی خطے کا جنکشن ہے۔
توقع ہے کہ اسی گلینلگ کے مقام پر ہی کیوروسٹی اپنے اہم مشینی بازؤں سے مٹی کو کھودنے کا کام کرکے اپنی صلاحیتوں کا پہلی بار بھرپور استعمال کرے گي لیکن اپنے جنکشن پر پہنچنے سے پہلے بھی اسے مناسب مٹی تلاش کرکے کھودنی ہوگی اور اسے گاڑی پر موجود لیبارٹری میں تجزیہ کے لیے بھیجنا ہوگا۔
چھ اگست کو کیوروسٹی کے مریخ پر اترنے سے تھوڑی دیر قبل ہی انجینیئر جیک میوٹیجک انتقال کر گئے تھے۔
مریخ گاڑی اپنے لیزر کی مدد سے پتھر کو جلا کر راکھ کر دے گی اور پھر اپنے روبوٹک ہاتھ اور ایکس رے سپیکٹرومیٹر کی مدد سے اس راکھ کا معائنہ کرے گی۔
اس معائنے سے تحقیق کاروں کو اس پتھر کی معدنیاتی ساخت کے بارے میں پتا چلے گا۔ کیوروسٹی اب تک مریخ پر تینتالیس مریخی دن گزار چکی ہے۔ اس وقت کا بیشتر حصہ آلات اور نظاموں کو تیار کرنے میں بسر ہوا ہے۔
اس گاڑی کو یہ جاننے کے لیے مریخ پربھیجا گیا تھا کہ آیا جس جگہ یہ اتری ہے اس کے آس پاس ماضی میں خوردبینی حیات موجود رہی ہے یا نہیں۔
اس سوال کا زیادہ بہتر جواب اس وقت ملے گا جب کیوروسٹی ماؤنٹ شارپ پہاڑی کے دامن تک پہنچے گی۔





