کمپنی کے مطابق آمدن میں زیادہ کمی نہ ہونے کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے حصص کی قیمت میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا۔
یکم ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں آر آئی ایم کو دو سو پینتیس ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔
گذشتہ برس انہی تین ماہ میں اسے تین سو انتیس ملین ڈالر کا منافع ہوا تھا۔
آر آئی ایم کا کہنا ہے کہ اس کے نقد ذخائر دو اعشاریہ دو ارب ڈالر سے بڑھ کر دو اعشاریہ تین ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔
نقد ذخائر میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی کو جدید سمارٹ فون لانچ کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ سمارٹ فون بلیک بیری کے بی بی 10 آپریٹنگ سسٹم پر چلیں گے۔
ماضی میں سمارٹ فون کی بانی مانے جانے والی کمپنی کو اپیل اور سام سنگ کے سمارٹ فونز نے شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق سام سنگ سمارٹ فونز دنیا میں مقبول ترین سمارٹ فونز بن چکے ہیں۔
کمپنی کے چیف ایکزاکیٹو تھورسٹن ہینز کا کہنا ہے ’اس حقیقت کے باوجود کہ ہماری کمپنی میں اہم تبدیلیاں کی جارہی ہیں دوسری سہ ماہی یہ بتاتی ہے کہ اس اہم وقت میں آر آئی ایم کاروبار اور مالی فائدے کے اعتبار سے بہتر کارکردگی کر رہی ہے۔‘
تکنیکی امور کے ماہر روب اینڈریل نے بی بی سی کو بتایا ’بلیک بیری کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ بزنس کلاس ان کے فون کا ہی استمعال کرتی ہے اور انہیں سب سے زیادہ یہ بات پریشان کر رہی ہے یہ کمپنی نے انہیں بی بی 10 پر چلنے والے سمارٹ فونز نہیں دے پا رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی کو اس برس کے پہلے تین ماہ کے دوران 125 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا تھا جب کہ گذشتہ سال اس کا منافع 934 ملین ڈالر تھا۔
اِس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کمپنی کے روایتی صارف، کاروباری حلقوں نے اپنی صلاحیتوں کو آئی فونز یا اینڈرائڈ سمارٹ فونز پر منتقل کر دیا ہے۔
بلیک بیری فون بنانے والی یہ کمپنی ایک دور کی دنیا بھر میں تیز ترین ترقی کرنے والی کمپنی رہی ہے تاہم آج ٹیبلٹ کی مارکیٹ میں بھی کمپنی کو پاؤں جمانے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔





