This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

Wednesday, 28 November 2012

HALAL MEAT IN POLAND


پولینڈ کی سب سے بڑی عدالت نے ملک میں مذہبی طریقہ سے ذبح کرنے کے طریقہ کو غیر قانونی قرار دیا ہے جبکہ یورپی یونین اس طریقے کو قانونی حیثیت دینے والی ہے۔
عدالت کے ایک آئینی ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بغیر بے ہوش کیے جانورکی گردن کاٹنے سے خون بہہ کر موت ہونا پولش قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
پولینڈ میں مسلمانوں اور یہودیوں کی آبادی کم ہے جو اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر ذبح کا یہ طریقہ اپناتے ہیں۔
لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ یورپی یونین نے ذبحہ کرنے کے طریقہ کو جو قانونی درجہ دینے کا فیصلہ کیا اس سے پولینڈ کا یہ قانون متصادم ہوگا یا اس کا اس پر کوئي اثر نہیں پڑیگا۔
یورپی یونین نے مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر ذبحہ کرنے کے طریقہ کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نفاذ یکم جنوری سے ہوگا۔
پولینڈ کے وزیر ذراعت سٹینسلاء کلیمبا کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے قوانین ایک مثال ہیں اور اگر اس فیصلے سے کوئي مشکل پیش آئی تو اس سے دور ہو جائیگي۔
ان کی وزارت نے ایسے تقریباً سترہ ذبح خانوں کو لائسنس جاری کیے ہیں جس کے تحت انہیں مذہبی بنیاد پر ذبح کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
لیکن مویشیوں پر ظلم کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے قوانین کے تحت ہر ملک کو اپنے انفرادی اصول و ضوابط وضع کرنے کی بھی اجازت ہے۔
ایسی ہی ایک تنظیم کے رکن ڈریز گزریا نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’ یہ ہم پر منحصر ہے کہ آيا ہم اس طرح کے قانون اپنائیں یا نہیں جس کے تحت اس طرح کے ذبیحہ کی اجازت دی گئي ہے۔''
یورپ میں پولینڈ سے پہلے سویڈن نے اس طرح کے ذبیحے پر پابندی عائد کی تھی اور اب ایسا پولینڈ نے کیا ہے۔
پولش ریڈیو کے مطابق ملک میں جانوروں کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں کی درخواست پر عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔
لیکن اس پر نکتہ چینی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندی سے غلط پیغام جائے گا اور یہ تاثر ہوگا کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں سے روادی نہیں برتی جاتی۔
صدر برونسلاء کموسوکی نے روایتی ذبحہ کرنے کے طریقہ کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ یہ تو ایک قدیم زمانے سے ہوتا آیا ہے۔
نیدرلینڈ میں گزشتہ برس اسی موضوع پر ایک بحث کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ روایتی ذبح کرنے کے طریقہ کے خلاف قانون بنانا یہودیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہوگا اور یورپ میں غیر رواداری کے بحران سے تعبیر کیا جائےگا۔
پولینڈ میں یہودی کمیونٹی کی یونین کے صدر پیؤٹ کاڈلک نے اس کے رد عمل میں کہا کہ مذہی امور سے متعلق ان کی تنظیم اور پولینڈ حکومت کے درمیان سنہ انیس سو ستانوے میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کی یہ صریحا خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ایسا لگتا ہے اس میں قانونی تضاد ہے اور اس کا کیا مطلب ہے اس بارے میں کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگي۔ہم اس پر قانونی صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔‘
یہودیوں کے ذبح کو کوشر کہا جاتا ہے اور چونکہ نازیوں کے زمانے میں پولینڈ میں یہودیوں کو ہلاک کیا گيا تھا اس لیے وہاں اس کی بڑی اہمیت ہے۔
اس دور میں پولینڈ میں تقریباً تیس لاکھ یہودی تھے اور اب ان کی تعداد چھ ہزار ہے۔ مسلمانوں کی تعداد بھی زيادہ نہیں اور وہ بھی چند ہی ہزار ہیں۔
لیکن پولینڈ میں کوشر اور حلال دونوں طرح کےگوشت تیار ہوتے ہیں اور یہاں سے عرب ممالک، ترکی اور اسرائيل کو بر آمد بھی کیے جاتے ہیں۔ یہ بھی ملک کا ایک بڑا بزنس ہے۔


GERMANY TWITTER


سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے جرمنی حکومت کی سفارش پر نازی نظریے کے حامی جرمن صارفین کے اکاؤنٹس بلاک کردیے ہیں۔
ٹوئٹر کے اس قدم کے بعد صرف جرمنی میں اس سائٹ کے صارفین نازی نظریہ کے حامیوں کے ٹوئٹس تک رسائی حاصل نہیں کر پائیں گے لیکن باقی پوری دنیا کے صارفین ان ٹوئٹس کو دیکھ سکیں گے۔
واضح رہے کہ یہ پہلی بار ہے جب ٹوئٹر نے اپنی مقامی سینسرشپ سے متعلق پالیسی کا نفاذ کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس کی پالیسی اس برس جنوری میں وجود میں آئی تھی۔
اس پالیسی کے تحت اگر ٹوئٹر پر شائع ہوئے پیغام یا ٹویٹس کسی ملک کے قانون کے خلاف ورزی کرتے ہیں تو انہیں مقامی طور پر بلاک کردیا جاتا ہے اور اسی پالیسی کے تحت جرمنی میں نازی نظریہ رکھنے والے صارفین کے ٹوئٹس بلاک کردیئے گئے ہیں۔
ٹوئٹر کے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے سائٹ پر ایک پیغام کے ذریعے کمپنی کے جنرل کاؤنسل الیکس میگریولی نے بتایا ’ٹوئٹر پر شائع ہونے والے مواد پر پابندی عائد کرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا ہے لیکن ہمارے پاس کچھ ایسے ٹولز ہیں جو یہ کام شفافیت سے کرسکتے ہیں‘۔
اپنے اس ٹوئٹ میں انہوں نے وہ خط بھی شائع کیا ہے جو جرمنی کی پولیس نے انہیں بھیجا تھا۔
جرمن پولیس نے اس خط کے ذریعے ٹوئٹر سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے ملک میں ان لوگوں کے ٹوئٹس بلاک کردے جو نازی نظریہ رکھتے ہیں۔

THE WORLD'S FASTEST TELESCOPE


آسٹریلیا نے دنیا کی تیز ترین دوربین بنائی ہے جس کے ذریعے بیرونی خلاء کا سروے کیا جائے گا اور ستاروں کی پیدائش اور دور دراز کہکشاؤں کا پتا لگایا جائے گا۔
مغربی آسٹریلیا میں آسٹریلین سکوائر کلومیٹر ایرے پاتھ فائنڈر (ایسکاپ) نے چھتیس اینٹینے لگائے ہیں جس میں سے ہر ایک کا قطر چالیس فٹ ہے۔
پندرہ کروڑ پچاس لاکھ امریکی ڈالر کی لاگت سے بننے والی یہ دوربین جمعہ سے ریڈیائی تصاویر اکٹھا کرنا شروع کر دے گی۔
ایسکاپ دنیا کے سب سے بڑے ریڈیائی دوربین کے پراجیکٹ کا حصہ ہے۔
یہ دوربین مغربی آسٹریلیا کی صحرا میں مرچیسن ریڈیو آسٹرونومی آْبزرویٹری میں لگائی گئی ہے۔
اس دوربین کی مدد سے آسمان کو دوسری دوربینوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے دیکھا جا سکے گا۔ اس کے دور دراز علاقے میں لگانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس پر انسانوں کی طرف سے بنائے گئے ریڈیو سگنلز کم سے کم اثر انداز ہوں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس دوربین کی مدد سے بہت زیادہ معلومات اکٹھا کی جا سکیں گی۔ اس میں سے ایک پراجیکٹ بلیک ہولز کو تلاش کرنا بھی ہے۔

EXTREME DEEP FIELD


ہبل ٹیلی سکوپ نے کائنات کی اب تک کی کھینچی گئی تصاویر میں سے سب سے شاندار تصاویر بنائی ہیں جس کا نام ایکسٹریم ڈیپ فیلڈ ہے۔

اس تصویر میں کہکشاؤں کے جھرمٹ کی تصویر ہے اور اس میں وہ کہکشائیں بھی شامل ہیں جو اس وقت کی ہیں جب پہلی بار ستارے چمکے تھے۔
لیکن یہ تصویر صرف کیمرے کا رخ اس طرف کرنا اور تصویر کھینچ لینے جیسا آسان نہیں ہے۔ اس میں کچھ کہکشائیں اتنی دور ہیں کہ وہ بہت مدھم آئی ہیں۔
اس تصویر کو کھینچنے کے لتے ہبل ٹیلی سکوپ کو کو آسمان کے ایک چھوٹے سے حصے پر پانچ سو گھنٹے تک فوکس کرنا پڑا اور پھر ان تمام روشنیوں کو تصویر میں محفوظ کر پائی ہے۔
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر میشیل ٹرینٹی جو اس اس منصوبے کی ٹیم میں شامل ہیں کا کہنا ہے ’یہ ایک شاندار تصویر ہے۔ ہم نے آسمان کے ایک چھوٹے سے حصے کو بائیس روز فوکس کیا اور ہم دور افتادہ کائنات کی تصویر بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کہکشائیں جب وجود میں آئیں تو کیسی لگتی تھیں۔‘
ایکسٹریم ڈیپ فیلڈ مطالعہ فلکیات میں بہت اہم کردار ادا کرے گی۔ اس تصویر میں جو کہکشائیں اس تصویر میں ہیں ان کی دیگر ٹیلی سکوپس نظر رکھ سکتے ہیں۔
سائنسدان کئی سالوں تک مصرف رہیں گے اور وہ کہکشاؤں کی مکمل تاریخ کو جان سکیں گی۔

BLACKBERRY LOSE

بلیک بیری فون بنانے والی کمپنی’رسرچ ان موشن‘ ( آر آئی ایم) کا کہنا ہے کہ رواں سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی میں کمی ضرور آئی ہے تاہم یہ کمی خدشات کے مقابلے میں قدرے کم رہی۔
کمپنی کے مطابق آمدن میں زیادہ کمی نہ ہونے کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے حصص کی قیمت میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا۔
یکم ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں آر آئی ایم کو دو سو پینتیس ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔
گذشتہ برس انہی تین ماہ میں اسے تین سو انتیس ملین ڈالر کا منافع ہوا تھا۔
آر آئی ایم کا کہنا ہے کہ اس کے نقد ذخائر دو اعشاریہ دو ارب ڈالر سے بڑھ کر دو اعشاریہ تین ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔
نقد ذخائر میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی کو جدید سمارٹ فون لانچ کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ سمارٹ فون بلیک بیری کے بی بی 10 آپریٹنگ سسٹم پر چلیں گے۔
ماضی میں سمارٹ فون کی بانی مانے جانے والی کمپنی کو اپیل اور سام سنگ کے سمارٹ فونز نے شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق سام سنگ سمارٹ فونز دنیا میں مقبول ترین سمارٹ فونز بن چکے ہیں۔
کمپنی کے چیف ایکزاکیٹو تھورسٹن ہینز کا کہنا ہے ’اس حقیقت کے باوجود کہ ہماری کمپنی میں اہم تبدیلیاں کی جارہی ہیں دوسری سہ ماہی یہ بتاتی ہے کہ اس اہم وقت میں آر آئی ایم کاروبار اور مالی فائدے کے اعتبار سے بہتر کارکردگی کر رہی ہے۔‘
تکنیکی امور کے ماہر روب اینڈریل نے بی بی سی کو بتایا ’بلیک بیری کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ بزنس کلاس ان کے فون کا ہی استمعال کرتی ہے اور انہیں سب سے زیادہ یہ بات پریشان کر رہی ہے یہ کمپنی نے انہیں بی بی 10 پر چلنے والے سمارٹ فونز نہیں دے پا رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی کو اس برس کے پہلے تین ماہ کے دوران 125 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا تھا جب کہ گذشتہ سال اس کا منافع 934 ملین ڈالر تھا۔
اِس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کمپنی کے روایتی صارف، کاروباری حلقوں نے اپنی صلاحیتوں کو آئی فونز یا اینڈرائڈ سمارٹ فونز پر منتقل کر دیا ہے۔
بلیک بیری فون بنانے والی یہ کمپنی ایک دور کی دنیا بھر میں تیز ترین ترقی کرنے والی کمپنی رہی ہے تاہم آج ٹیبلٹ کی مارکیٹ میں بھی کمپنی کو پاؤں جمانے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔


Tuesday, 27 November 2012

MARS


مریخ کے لیے ناسا کی طرف سے بھیجی گئی خلائی گاڑی کیوروسٹی کا ایک خاص چٹان سے قریبی رابطہ ہوا ہے اور اس نے چٹان کا جائزہ لینے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
روبوٹ نے اپنی مشینی باہیں وہاں پائے جانے والے جوہری مادوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک قسم کی مخروطی چٹان کی طرف بڑھائیں اور اسے کھودا ہے۔ابھی بھی جاری ہے۔
پیر کے روز یہ گاڑی تقریباً بیالیس میٹر تک چلی۔ سات ہفتے قبل مریخ پر پہنچنے والی کیوروسٹی کا اتنی طویل مسافت کا یہ اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔
مریخ کی اس چٹان کا نام ’جیک میٹجیوک ‘ ہے جوگاڑی کے انجن بنانے والے ایک انجینیئر کے نام پر ہے۔
اس چٹان کی کھدائی سے کسی بڑی دریافت یا تحقیق کی توقع نہیں ہے بلکہ اس پہلے تجربے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ روبوٹ کے بازو، ہینڈ لینس، اور ایکسرے کی کارکردگی کیا رہتی ہے۔
ابھی یہ گاڑی مریخ کے اس مقام پر پہنچنے کی کوشش میں ہے جسے سائنس دانوں نے گلینلگ کا نام دیا ہے۔ سیٹلائٹ سے موصول ہونے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مقام تین اقسام کے ارضیاتی خطے کا جنکشن ہے۔
توقع ہے کہ اسی گلینلگ کے مقام پر ہی کیوروسٹی اپنے اہم مشینی بازؤں سے مٹی کو کھودنے کا کام کرکے اپنی صلاحیتوں کا پہلی بار بھرپور استعمال کرے گي لیکن اپنے جنکشن پر پہنچنے سے پہلے بھی اسے مناسب مٹی تلاش کرکے کھودنی ہوگی اور اسے گاڑی پر موجود لیبارٹری میں تجزیہ کے لیے بھیجنا ہوگا۔
چھ اگست کو کیوروسٹی کے مریخ پر اترنے سے تھوڑی دیر قبل ہی انجینیئر جیک میوٹیجک انتقال کر گئے تھے۔
مریخ گاڑی اپنے لیزر کی مدد سے پتھر کو جلا کر راکھ کر دے گی اور پھر اپنے روبوٹک ہاتھ اور ایکس رے سپیکٹرومیٹر کی مدد سے اس راکھ کا معائنہ کرے گی۔
اس معائنے سے تحقیق کاروں کو اس پتھر کی معدنیاتی ساخت کے بارے میں پتا چلے گا۔ کیوروسٹی اب تک مریخ پر تینتالیس مریخی دن گزار چکی ہے۔ اس وقت کا بیشتر حصہ آلات اور نظاموں کو تیار کرنے میں بسر ہوا ہے۔
اس گاڑی کو یہ جاننے کے لیے مریخ پربھیجا گیا تھا کہ آیا جس جگہ یہ اتری ہے اس کے آس پاس ماضی میں خوردبینی حیات موجود رہی ہے یا نہیں۔
اس سوال کا زیادہ بہتر جواب اس وقت ملے گا جب کیوروسٹی ماؤنٹ شارپ پہاڑی کے دامن تک پہنچے گی۔

SUPER COMPUTER


دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی لسٹ میں پہلا اور دوسرا نمبر امریکہ نے اپنے نام کر لیا ہے۔
اس سے قبل بھی امریکہ نے پہلی اور دوسری پوزیشن اپنے نام کی تھی۔ایسا تین سال قبل ہوا تھا. کمپیوٹر امریکی ریاست ٹینیسی میں اوک رِج نیشنل لیبارٹری میں ہے جس کا نام ٹائیٹن ہے۔
یہ کمپیوٹر کرائے پر بھی دیا جا سکتا ہے اور یہ امریکی محکمہ توانائی کی ملکیت ہے۔
ٹائیٹن کو جون میں جب بنایا گیا تھا تو اس وقت یہ دنیا کے چھٹے نمبر پر تھا۔
دنیا کے پانچ سو طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز کی فہرست سالٹ لیک سٹی یوٹا میں منعقد ہونے والی سپر کمپیوٹنگ کانفرنس میں جاری کی گئی ہے۔
امریکی سپر کمپیوٹر ٹائیٹن کے علاوہ آئی بی ایم کا ’سکویا‘ دوسرے نمبر پر، جاپان کا سپر کمپیوٹر ’کے کمپیوٹر‘ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ شکاگو میں آئی بی ایم کا ’بلیو جین‘ چوتھے نمپر پر ہے۔ جرمنی میں آئی بی ایم ہی کا ’بلیو جین‘ پانچویں نمبر پر ہے۔
سنہ انیس سو ترانوے میں تھِنکنگ مشینز کا CM-5/1024 کمپیوٹر اس فہرست کا پہلا سپر کمپیوٹر تھا۔ پروفیسر ڈونگارا کہتے ہیں کہ سکویا کی رفتار اس کمپیوٹر سے تقریباً پونےتین لاکھ مرتبہ زیادہ تیز ہے۔


NEW SOCIAL SITE


ڈویلپرز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کی متبادل ویب سائٹ ’ڈائسپورا‘کی پہلی جھلک دکھائی ہے۔
اس جھلک سے یہ ویب سائٹ جانی پہچانی لگتی ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق یہ پرائیویسی سےآگاہ، ذاتی کنٹرول اور سوشل نیٹ ورک ہے۔
کمیونٹی کے سرمایے سے تیار کردہ ویب سائٹ کے اس منصوبے کا پہلا کوڈ اور سکرین شاٹس جاری کیے ہیں۔
یہ خاکے لوگوں کے لیے مانوس ہونگے کیونکہ یہ کسی بھی سماجی ویب سائٹ جیسے فیس بک سے ملتے جلتے ہیں۔ ان خصویات میں پیغامات اور تصاویر کا تبادلہ اور سٹیٹس کا اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے۔
ویب سائٹ کو تیار کرنے والی ٹیم نے اپنے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ’ اب یہ کمیونٹی کا منصوبہ ہے جو ٹیکنیکل خصوصیات کے ساتھ ہر ایک کے لیے کھلا ہے جو سماجی نیٹ ورک کی بصیرت کا تبادلہ کریں گے اور صارفین کو کنڑول دے گا۔
ویب سائٹ تیار کرنے والی ٹیم نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ اس وقت وہ سائٹ کو فیس بک سے ضم کرنے پر کام کر رہے ہیں، اور اس کو آسان بنائیں گے تاکہ لوگ اپنی ذاتی معلومات کو کنڑول کر سکیں گے۔
ٹیم کا اکتوبر میں اس سائٹ کو عام لوگوں کے استعمال کے لیے جاری کرنے کا ارادہ ہے۔
اس ویب سائٹ کو رواں سال کے شروع میں امریکی طالب علموں نے اس وقت تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کو پیچیدہ اور مبہم پرائیویسی سیٹنگز کی وجہ سے تنقید کا سامنا تھا۔
ان طالب علموں نے کک سٹاٹر ویب سائٹ کے ذریعے چھ ہزار پانچ سو لوگوں سے دو لاکھ چھ سو بیالیس ڈالر کے فنڈز اکٹھے کیے ہیں۔
نئی ویب سائٹ کے ایک خالق میکس سالزبرگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہم چاہتے ہیں کہ صارفین جو بھی شراکت داری کریں اس پر ان کا کنڑول ہو۔‘